Muslims Hands Pakistan

Muslims Hands Pakistan

*مسلم ہینڈز فلاحی کاموں میں حکومت کے شانہ بشانہ، سید ضیاء النور*

اسلام آباد: مسلم ہینڈز تعلیم، صحت، یتیموں کی پرورش، ماحولیاتی تحفظ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے بڑے فلاحی منصوبوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے شانہ بشانہ ہے۔ یہ بات مسلم ہینڈزپاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر سیدضیاء النور نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کی۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اور بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کا یہ کردار ہوتا ہے کہ وہ حکومتوں کے ساتھ مل کران کے ترقی کے مقاصد کے حصول میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ تعلیم کے شعبہ پر بات کرتے ہوئے سیدضیاء النور کا یہ کہنا تھا کہ مسلم ہینڈزکے ملک بھر میں 210سے زائدفارمل ایجوکیشن اسکولز کے ساتھ ساتھ 42کمیونٹی اسکولز ہیں جن میں سے60000سے زائد یتیم، مسکین اور ضرورت مند بچے نرسری سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرچکے ہیں اس کے علاوہ 18سے 22سال کے400سے زائد بچے یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں جن کے تعلیمی اخراجات مسلم ہینڈز اٹھا رہی ہے۔6000سے زائد بچے مسلم ہینڈز کے سسٹم میں مکمل طور پر سپانسرشپ کے تحت تعلیم پا رہے ہیں۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ اب دنیا ”سکل اورینٹڈ ایجوکیشن” کی طرف گامزن ہے، ایسی تعلیم جس کے حصول کے بعد طلباء روزگار کے لئے خود پرانحصار کریں اورانٹرپرینیورشپ کی طرف راغب ہوں۔ موجودہ حالات میں کورونا وبا کے باعث اس کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ بہت سارے کاروبار اس وبا کی وجہ سے بند ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو دنیا بھر میں بے روزگار ہونا پڑا۔ اگر بچوں کو موجودہ حالات کی ڈیمانڈ کے مطابق کورسز کروائے جائیں تو بیروزگاری اور غربت میں کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔مسلم ہینڈزپاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر سیدضیاء النور کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم ہینڈز نے پچھلے سال کورونا وبا کے آغاز سے لے کراب تک حکومت کے شانہ بشانہ کام کیا ہے، اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلانے میں میں حکومت کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اس وبا کے باعث بیروزگار ہونے والے ہزاروں افراد کے لیے ”کوئی بھوکا نہ سوئے” کے عنوان کے تحت اوپن کچن کا اہتمام کیا گیا تاکہ اس وبا کا شکار ہونے والے افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ اسی عرصے میں مسلم ہینڈز نے مختلف پروگراموں کے ذریعے دو ملین لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلوں کا بڑی تیزی سے شکار ہورہی ہے اور ہمارا ملک ان چند ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ اس کا شکار ہے۔ غیرسرکاری اداروں کو چاہیے کہ وہ ماحولیات پر کام کرتے ہوئے حکومت کو مدد فراہم کریں۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند سالوں میں حکومت پاکستان نے قابل رشک کام کیا ہے جس کی عالمی سطح پر کافی پزیرائی ہوئی ہے۔ مسلم ہینڈز نے ماحول کو بہتر بنانے میں شجرکاری، صفائی ستھرائی اور ماحولیاتی تحفظ میں اپنا حصہ ڈالا ہے، امید ہے مزید ادارے آگے آئیں گے اور اس کام کو آگے بڑھانے میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوں گے۔ مسلم ہینڈزپاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر سیدضیاء النور نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی سے بہت ساری بیماریوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ مسلم ہینڈز مختلف سکیموں کے ذریعے گھریلو اور کمیونٹی کی سطح پر پانی کی فراہمی کا انتظام کررہی ہے اس کے علاوہ شہری سطح پر واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں۔مسلم ہینڈز اگلے سال آزاد کشمیر اور بالخصوص میرپور ڈویژن میں 100سے زائدواٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تعلیم کے موضوع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر تعلیم کے شعبے میں بھی کافی کام کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے قومی سطح پر ایک نصاب کی تشکیل شاندار اقدام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس اقدام سے پسے ہوئے طبقے کو آگے آنے کا موقع ملے گا، قوم میں یگانگت اور بھائی چارے میں اضافہ ہوگا اورایک قوم کی تشکیل ہوگی۔

تنظیم کا تعارف:
مسلم ہینڈز پاکستان وزارت داخلہ، حکومت پاکستان (No. 4/113/2016-PE-III) کے تحت رجسٹرڈ ہے اور آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان میں اپنے دو ریجنل اور گیارہ ایریا آفسز کے ذریعے بیالیس اضلاع میں اپنا فلاحی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تنظیم اپنے فلاحی کاموں کے ذریعے پورے پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف طبقات کو تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی، روزگار اور ہنگامی حالات میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
دنیا بھر میں مسلم ہینڈز پچاس سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے۔ خاص طور پر اس کا حدف وہ ممالک ہیں جہاں پرانسانی المیوں نے جنم لیا ہے۔